اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ امریکہ میں شٹ ڈاؤن تیسرے روز میں داخل ہو گيا ہے لیکن اس ملک کے حکمران اس بحران کی کوئي راہ حل تلاش کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے۔ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور کانگرس کے رہنماؤں کی میٹنگ کے بعد تنازعہ کے دونوں فریقوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ جبکہ ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی دونوں نے ایک دوسرے کو شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی ہے۔البتہ امریکی حکومت کا موجودہ مسئلہ سترہ اکتوبر کو ممکنہ طور پر پیش آنے والے مسئلے کے مقابلے میں زیادہ بڑا نہیں ہے۔ سترہ اکتوبر کو امریکی حکومت کا غیرملکی قرضے واپس کرنے کا آخری دن ہے اور اگر وائٹ ہاؤس اور کانگرس کے درمیان حکومت کے قرضے کی حد بڑھانے کے سلسلے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہوتا تو میڈیا کے بقول امریکہ میں مالیاتی قیامت برپا ہو جائے گی۔ امریکہ کی طرف سے ملکی اور غیرملکی قرضے ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک مہلک سونامی آ جائے گا کہ جس سے پوری دنیا کے علاقوں میں مالیاتی بازار ڈوب سکتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود امریکہ میں شٹ ڈاؤن کے تیسرے روز تک ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان اتفاق رائے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے ہیں۔سترہ سال قبل بھی کہ جب ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان اختلافات کی وجہ سے ایسے ہی حالات پیدا ہو گئے تھے، فیڈرل حکومت کا کام تقریبا تین ہفتے تک ٹھپ رہا تھا۔ اس وقت بھی اگر یہ بحران اتنے ہی عرصے تک جاری رہا تو کئي لاکھ سرکاری ملازمین کو سخت مالی نقصان پہنچنے کے علاوہ حکومت کے قرضوں کی حد بڑھانے کا وقت گزر جائے گا اور امریکہ میں مالیاتی قیامت برپا ہو جائے گی۔اس وقت امریکہ کے مالیاتی استحکام اور بیوروکریٹ نظام کو درپیش خطرات میں سے کوئي بھی خطرہ ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان مصالحت کا باعث نہیں بنا ہے۔ ریپبلکنز نے بجٹ کی منظوری کو طبی انشورنس کے قانون پر عمل درآمد ملتوی کرنے سے مشروط کیا ہے۔ جبکہ ڈیموکریٹس نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس شرط پر اس قانون کے بارے میں مذاکرات کریں گے کہ جب پہلے بجٹ بل کی منظوری دی جائے۔ دوسرے لفظوں میں بجٹ اور "اوباما کیئر" سے موسوم میڈیکل انشورنس کے قانون کے درمیان ایک قسم کا دور تسلسل پیدا ہو گیا ہے اور کوئی بھی جماعت پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہے۔ اس طرح ایسا نظر آتا ہے کہ وقت کا گزرنا ریپبلکن پارٹی کے نقصان میں ہے۔ حالیہ دنوں کے دوران کیے جانے والے سروے کے مطابق امریکی عوام کی بھاری اکثریت ریپبلکن پارٹی کو موجودہ بحران کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔ عوام کی اس اکثریت کے خیال میں ٹی پارٹی کے انتہا پسند دھڑے نے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے امریکی بجٹ کو یرغمال بنا لیا ہے۔ یہ بھی پیشین گوئی کی جا رہی ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی کا اعتدال پسند دھڑا موجودہ سیاسی تعطل سے نکلنے کے لیے کانگرس کے ڈیموکریٹ ارکان سے مل جائے، تو اس پارٹی کو داخلی جنگ حتی تقسیم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی بنا پر امریکی کانگرس میں ریپبلکنز کے پارلیمانی لیڈر جان نوئنر نے کانگرس میں اپنے اعتدال پسند ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی توانائی رکھنے کے باوجود وائٹ ہاؤس اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مصالحت کے لیے کوشش کی ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب امریکہ میں مالیاتی قیامت کا وقت قریب آتا جا رہا ہے اور گھڑی کی سوئياں اس وقت کو کم کرتی جا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
2 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 469297
امریکہ میں شٹ ڈاؤن تیسرے روز میں داخل ہو گيا ہے لیکن اس ملک کے حکمران اس بحران کی کوئي راہ حل تلاش کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے۔